Saturday, December 15, 2018
نیوز

ساڑھے 12ہزار امیدواروں کے ایک ہزار ارب کے خفیہ اثاثے ظاہر

384views

کراچی(سٹاف رپورٹر)عام انتخابات میں حصہ لینے والے 12 ہزار570 امیدواروں کے ایک ہزارارب روپے سے زائد کے خفیہ اثاثے ظاہرہونے پرتحقیقاتی ادارے متحرک ہوگئے ۔کم قیمت ظاہرکیے گئے اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو معلوم کرنے اور جانچنے کا ٹاسک ایک تفتیشی ادارے کے سپرد کردیا گیا۔انتخابی معرکے میں اترنے والے امیدواروں سے ان کے ظاہرکردہ اثاثوں اور ذرائع آمدن کی تفصیلات 31 جولائی کے بعد طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے ۔ملک میں کرپشن اوربدعنوان سیاستدانوں ومنتخب نمائندوں کے خلاف مہم 31 جولائی کے بعد مزیدتیز کرنے کی حکمت عملی تیارکرلی گئی ہے ۔معتمد ترین ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپشن اوربدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے سلسلے میں عام انتخابات 2018 میں حصہ لینے والے قومی اسمبلی کے لیے 3 ہزار 675 اور چاروں صوبوں کی اسمبلیوں کے لیے 8 ہزار 895 امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی کے ساتھ فراہم کی گئی تفصیلات کے تحت ان کے اثاثوں کی چھان بین شروع کردی گئی ہے ۔ انتخابی معرکے میں اترنے والے امیدواروں کے اثاثوں کی تحقیقات میں اس امرکومدنظررکھا گیا ہے کہ امیدواروں کی جانب سے ظاہرکردہ اثاثے جن کی مارکیٹ قیمت کم ظاہرکی گئی ہے اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو اورذرائع آمدن کا پتہ لگایا جارہاہے ،جبکہ 31 جولائی 2018 کے بعد پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ اثاثے رکھنے والی شخصیات سے ذرائع آمدن کی تفصیلات بھی طلب کی جائیں گی۔نگران حکومت کوایک تفتیشی ایجنسی کی جانب سے بھجوائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عام انتخابات 2018 میں حصہ لینے والے 12 ہزارسے زائد امیدواروں نے ایک ہزارارب روپے سے زائد کے خفیہ اثاثے ظاہرکیے ہیں،جبکہ ٹیکس کے علاوہ تحقیقاتی اداروں کی پہنچ سے بچنے کے لیے اپنے اثاثوں کی ویلیومارکیٹ شرح سے کم ظاہرکی ہے اور25 فیصد ایسی شخصیات بھی ان میں شامل ہیں جنہوں نے تاحال اپنے مکمل اثاثے ظاہرنہیں کیے ہیں۔ اس ضمن میں نگران حکومت نے تفیتشی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ انتخابات کے بعد ایسی شخصیات جودانستہ اثاثے چھپانے میں ملوث پائی جائیں ان کے خلاف ٹھوس شواہد حاصل کرکے کارروائی کا آغازکریں۔معتمد ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابی معرکے میں اترنے والے کاغذاتِ نامزدگی کیساتھ ہر صورت درست کوائف جمع کرانے کے پابند ہیں،گمراہ کن کوائف فراہم کرنے والے جہاں آرٹیکل 62 اور 63 کی زد میں آسکتے ہیں وہیں فوری توہینِ عدالت کی کارروائی پرانہیں جیل کی ہوا کھانا پڑسکتی ہے ،جبکہ غلط بیانی سے کام لینے والوں کو تاحیات نااہلی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے ۔

Leave a Response