Friday, August 17, 2018
اسلامک

دنیا کی سب سے پہلی فقہ اکیڈمی

31views

مولانا محمد غیاث الدین حسامی

فقہ ِاسلامی ایک جامع اور منظم نظامِ حیات ہے ، قرآن و سنت سے کشید کیا ہوا عطر ہے ، فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ ایک معتدل اور متوازن قانون ہے ، یہ فقہ اسلامی ہی ہے جو حیرت انگیز طور پر انسانی زندگی کو منظم اور مربوط کرتی ہے، خالق ومخلوق کے مابین رشتہ کو استوار کرتی ہے ، سیاسی اور معاشی نظام کی صورت گری کرتی ہے اور ایک انسان کو کام یاب اور خوش گوار زندگی گزار نے کا گر سکھاتی ہے۔

زمانہ رسالت اور فقہ
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلمکازمانہ وحی کا زمانہ تھا ،آپ صلی الله علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہوتا تو آ پ اس کی تشریح فرماکر لوگوں کو دینی و دنیوی مسائل بتاتے ، لوگ آپ سے مسائل پوچھتے اور اس پر عمل کرتے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اللہ تعالی کی وحی کی بنیاد پر دینی احکام جاری فرماتے، کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وحی سے کوئی حکم نہ ملنے کی صورت میں آپ اجتہاد فرماتے۔ بعد میں اللہ تعالی کی جانب سے بذریعہ وحی اس اجتہاد کی توثیق کر دی جاتی یا اگر کسی تغیر و تبدل کی ضرورت پیش آتی تو اس بارے میں آپ کو وحی کے ذریعے راہ نمائی فراہم کر دی جاتی، جیسا کہ احادیث میں ہے : رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس امرکے بارے میں کوئی وحی نازل نہیں ہوتی ہے تو میں اپنی رائے سے تمہارے درمیان فیصلہ کیا کرتا ہوں۔(ابوداود ،باب فی قضاء القاضی) آپ کے عہد میں اس وقت کی موجود دنیا میں زندگی گذارنے کے انداز مختلف تھے، صاحب قرآن صلی الله علیہ وسلم نے ہدایت ِربانی کے نچوڑ قرآن حکیم کی روشن تعلیمات اور اپنے حسنِ عمل سے عقائد و افکار ، معاشرت ، معیشت ،قانون وسیاست، تعلیم وتربیت، غرض یہ کہ ہر شعبہ حیات میں جو تاریخی اور مثالی انقلاب برپا کیا وہ کسی بھی صاحب عقل و دانش سے پوشیدہ نہیں ۔

دور صحابہ اور فقہ
آپ کے بعد صحابہ بھی اسی طریق پر عمل کرتے رہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے تربیت یافتہ اصحاب کے سینہ کو اللہ نے علم و حکمت سے معمور کیا تھا ،آپ صلی الله علیہ وسلم کے فیض ِ صحبت نے ان کے ذوق ومزاج کو شریعت آشنا بنادیا تھا،یہ حضرات آپ صلی الله علیہ وسلم کی اجازت سے مسائل بتایا کرتے تھے اوردینی معاملات میں منشائے ربانی کے مطابق رائے دینا شروع کر چکے تھے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد یہ حضرات باضابطہ فتاوی دیتے تھے ، ان میں خاص طور سے سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان، علی، عائشہ، عبدالرحمن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہم کے فتاوی مشہور ہیں۔ ان کے فتوی دینے کا طریقہ کار یہ تھا کہ جب ان کے سامنے کوئی صورت حال پیش کی جاتی تو وہ اس کا موازنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے سامنے پیش آئی ہوئی صورت حال سے کرتے اور ان میں مشابہت کی بنیاد پر حضور کے فیصلے کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنا دیتے۔ جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا صحیفہ خداوندی ا ور سنت ِرسول میں اس کو تلاش کرتے اگر اس میں مسئلہ کا حل موجود نہ ہوتا تو قرآن و سنت کو سامنے رکھ کراپنے اجتہاد و رائے سے کام لیتے اور اس مسئلہ کو حل کرتے، صحابہ نے فقہ و اجتہاد کی راہ سے اسلامی تعلیمات کے دریا بہائے اور اجتہاد کے اسی چشمہ صافی سے لاکھوں کو سیراب کیا، ہر پیش آمدہ مسائل پر ان کے اہل الرائے حضرات نے اپنی رائے پیش کی، اس کی بہت ساری مثالیں احادیث اور سیر کی کتابو ں میں موجود ہیں اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے خود اس کام کو پسند کیا ہے،یہی وجہ ہے کہ جب حضور اکرم نے حضرت معاذ بن جبل کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت معاذ  سے پوچھاکہ اے معاذ! تم کس طرح فیصلہ کرو گے جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ پیش ہو جائے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا اگر تم اللہ کی کتاب میں وہ مسئلہ نہ پاو تو؟ فرمایا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر سنت رسول میں بھی نہ پاو تو؟ انہوں نے کہا کہ اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کمی کوتاہی نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ان کے سینہ کو تھپتھپایا اور فرمایا کہ اللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے اللہ کے رسول کے قاصد (معاذ)کو اس چیز کی توفیق دی جس سے رسول اللہ راضی ہیں۔(ابوداود ،باب اجتہاد الرأی فی قضاء )

دور تابعین اور فقہ
خیر القرون کے دورِ تابعین میں قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ حضرات صحابہ کے قیاس کردہ فیصلوں کو سامنے رکھ کر تابعین نے اپنے زمانے میں پیش آمدہ مسائل کو حل کیا ہے اور یہ وہ زمانہ تھا کہ اسلام سرزمین عرب کی مسافت طے کرتا ہوا عجم میں داخل ہوچکا تھا ،سندھ سے اندلس تک طولاً اور شمالی افریقہ سے ایشیائے کو چک تک عرضاًپھیل گیا تھا اور جب متمدن علاقے فتح ہوئے اور امور سلطنت میں وسعت ہوئی تو نئے مسائل اس کثرت سے پیش آئے کہ ان کا حل تلاش کرنا ناگزیرتھا، اس دور میں مختلف علاقوں میں بلند پایہ ، عالی ہمت ، ذہانت و فطانت کے مینار فقہاء و مجتہدین پیدا ہوئے، جنہوں نے اس عہد کے نئے نئے مسائل کا قرآن و حدیث کی روشنی میں استنباط کیا اور شریعت کی روشنی میں اس کا حل پیش کیا ،صغار صحابہ ہوں یا کبار تابعین، انہیں میں علماء کی ایک بڑی جماعت تیار ہوگئی، جن کی حیثیت علم و مرتبے اور تقوی واجتہاد میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تھی۔ نئے مسائل کے حل کے لیے علمی مکالمات ہوئے، تحریریں سامنے آئیں اور یوں ہرفقیہ و مجتہد کا اپنا اپنا علم واجتہاد ظاہر ہوااور اپنے ایک مکتب فکر کے ساتھ کام کرنے لگا،اگر اس زمانے کے فقہاء و مجتہدین کی ایک فہرست تیار کی جائے تو بہت سارے نام اس میں شامل ہوسکتے ہیں، ان میں سے بعض فقہاء کے مسالک صرف اس دور میں رائج ہوئے اور بعد میں محفوظ نہیں رہ سکے اور بعض مسالک بعد میں بھی رائج رہے اور اب تک باقی ہیں، جن میں امام اعظم ابو حنیفہ  ، امام مالک  ، امام شافعی  ، امام احمد بن حنبل  ہیں کہ ان چار اماموں کے فقہ و اجتہاد کو وسعت بخشی گئی اور ان کے ذریعہ قیامت تک پیش آنے والے مسائل کو حل کیاگیا، اللہ تبارک و تعالی نے ان ائمہ کرام کو خاص مقام و مرتبہ عطا فرمایا ، ان کی فقہ کی قبولیت صاحب مسلک کی مقبولیت کی واضح دلیل ہے، پھر ائمہ اربعہ میں امام اعظم ابو حنیفہ کو جو شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی اور جس طرح اسلامی دنیا کے بڑے حصہ میں آپ کے مسلک کی حکم رانی ہے وہ اسلامی تاریخ کا سنہرا باب ہے ، آپ ہی کے ذریعہ فقہ کی تدوین کا عظیم الشان کارنامہ انجام پایا، جس پر مسلمان ہمیشہ فخر کریں گے۔

امام اعظم ابو حنیفہ کی فقہ ( فقہ حنفی) جو دراصل آپ اور آپ کے تلامذہ کے اجتہادات کا خلاصہ اور نچوڑ ہے ، کئی صدیاں گذرنے کے بعد بھی فقہ حنفی کی جو معنویت ہے وہ دوسری کسی بھی فقہ میں نظر نہیں آتی، اسی لیے کسی کہنے والے نے کہا کہ فقہ حنفی فطرت کے عین مطابق ہے، اس میں ہر اس مسئلہ کا حل موجودہے جس کا فطرت تقاضاکرتی ہے ۔

فقہ کے مدون اول
اہل تشیع کہتے ہیں کہ فقہ کے مدون اول امام جعفر صادق ہیں، جب کہ جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ تدوین فقہ کا سہرا امام الائمہ، کاشف الغمہ، سراج الامہ، حضرت نعمان بن ثابت المعروف بہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمة الله علیہ کے سر جاتاہے اور صحیح بات یہی ہے کہ فقہ کے مدون اول امام اعظم ابو حنیفہ  ہیں، تمام فقہاء و مجتہدین نے اس کا اعتراف کیا ہے ، امام شافعی نے فرمایا کہ جو فقہ پڑھنا چاہتاہے وہ امام اعظم ابو حنیفہ کا محتاج ہے۔(الدر المختار حاشیہ ابن عابدین مقدمہ) اور امام مالک رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ کو فقہ کی توفیق دی گئی ہے۔(تاریخ الفقہ) اسی طرح علامہ سیوطی لکھتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے علم شریعت کی تدوین کی اور اسے ابواب میں مرتب کیا، پھر موطا کی ترتیب میں امام مالک نے انہیں کی پیروی کی، امام اعظم ابو حنیفہ سے پہلے کسی نے یہ کام نہیں کیا۔ ( تبییض الصحیفة ) اسی طرح مسند خوار زمی میں ہے، امام اعظم  نے سب سے پہلے علم شریعت کی تدوین کی ،کیوں کہ صحابہ و تابعین نے علم شریعت میں ابواب فقہ کی ترتیب پر کوئی تصنیف نہیں کی؛ کیوں کہ ان کو اپنی یاد پر اطمینان تھا ،لیکن امام اعظم رحمة الله علیہ نے صحابہ و تابعین کے بلاد اسلامیہ میں منتشر ہونے کی وجہ سے علم شریعت کو منتشر پایا اور متاخرین کو سوءِ حفظ کا خیال کر کے تدوین شریعت کی ضرورت محسوس کی ، ان علماء و مجتہدین کے اقوال سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ علم شریعت کی تدوین سب سے پہلے امام اعظم ابو حنیفہ رحمة الله علیہ نے ہی کی ہے۔

امام اعظم ابوحنیفہ سے پہلے ابراہیم نخعی نے اس طرف توجہ دی تھی لیکن ان کی یہ کوشش صرف زبانی روایات پر مشتمل تھی، فن کی حیثیت سے نہ تھی، اور نہ استنباط و استدلال کے قواعد مقرر تھے ،نہ احکام کی تفریع کے اصول وضوابط متعین تھے ، اس لیے حضرت ابراہیم نخعی کی یہ سعی قانون کے درجہ تک نہیں پہنچی تھی ،لیکن امام اعظم ابوحنیفہ کی طبیعت مجتہدانہ اورذہن غیر معمولی فطین اور حافظہ نہایت قوی تھا اور اپنے زمانے کے حالات اور تجارت کی وسعت اور ملکی تعلقات میں معاملات کی ضرورتوں سے باخبر تھے ، ہر روز سینکڑوں فتاوی آتے تھے، جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ تدوین فقہ کی کس قدر ضرورت ہے، اس لیے امام اعظم ابو حنیفہ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ مسائل کے جزئیات کو اصولوں کے ساتھ ترتیب دے کر قانون کا ایک مجموعہ تیار کیا جائے، جو آنے والی تمام انسانیت کے لیے ایک دستور ثابت ہو اور جس میں تمام چیزوں کی رعایت ہو، چناں چہ امام اعظم ابو حنیفہ کی مجتہدانہ طبیعت نے اس فن کی تدوین وترتیب کی طرف توجہ کی اور اس کے لیے ایک خاص فقہ اکیڈ می قائم کی ،جسے دنیا کی سب سے پہلی فقہ اکیڈمی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

فقہ اکیڈمی کاقیام
ہجرت کا ایک سو بیسواں سال تھا ، امام اعظم ابو حنیفہ کے استاذ حضرت حماد اس دنیا سے رحلت کر گئے تھے ، اس وقت بلاد عرب و عجم میں فقہاء ومجتہدین کی کثرت تھی ، ہر فقیہ نئے مسائل میں قرآن و حدیث کو سامنے رکھ کراپنے اجتہاد کے ذریعہ انفرادی طور پر فتاوی دیا کرتاتھا ،ایسے میں امام اعظم ابو حنیفہ نے تمام مجتہدین کے برعکس مسائل کے استنباط و اجتہاد کا یہ کام انفرادی طور پر تنہا انجام نہیں دیا، بلکہ اس کام کے لیے آپ نے حضرت عمرکی طرح شورائی طرز پر اپنے سینکڑوں تلامذہ میں سے خاص خاص تلامذہ کو، جو قرآن وحدیث ، فقہ و فتاوی ، زہد و تقوی ، عبادت و پرہیز گاری میں منفرد مقام رکھتے تھے ،جمع کر کے ایک فقہ اکیڈمی تشکیل دی، جو اظہار رائے میں اپنی مثال آپ تھی،گویا فقہ اکیڈمی قائم کرکے امام اعظم ابو حنیفہ نے اس حدیث پر عمل کیا جس میں جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے تاکید کی کہ جدید پیش آمدہ مسائل فقہاء سے معلوم کرو۔ کسی ایک کی بات پر مت چلو ۔ علامہ طبری نے اپنی کتاب میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول الله(صلی الله علیہ وسلم)! اگر کوئی ایسا امر پیش آئے جس میں امر و نہی منصوص نہ ملے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فقہاء و عابدین سے معلوم کرو اور کسی ایک کی بات پر مت چلو۔(طبری)

فقہ حنفی کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ تنہا ایک مجتہد کی رائے اور ان کی کوششوں کا ثمرہ نہیں، بلکہ یہ ممتاز فقہا و مجتہدین کی پوری ایک جماعت کی سالہا سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے، علامہ موفق  فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے فقہ حنفی کی تدوین کے لیے نظام شورائی رکھا اور وہ شرکائے مجلس کو چھوڑکر تنہا اپنی رائے مسلط نہیں کرتے تھے۔(مناقب ابی حنیفہج2، ص:133)

فقہ اکیڈمی کے چالیس فقہاء
امام اعظم ابو حنیفہ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے؛ لیکن آپ نے ان میں سے خاص خاص تلامذہ کو، جنہیں آپ بہت عزیز رکھتے تھے، اپنی فقہ اکیڈمی میں شامل کیا،جن کی تعداد بقول امام طحاوی چالیس تھی (بعض نے 36اور60 کی تعداد بھی ذکرکی ہے )لیکن ان فقہاء کے سنین وفات اور امام صاحب سے وابستگی کو دیکھتے ہوئے صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سارے حضرات شروع سے آخر تک اس کام میں شریک نہیں رہے؛ بلکہ مختلف ارکان نے مختلف ادوار میں تدوین کے اس کام میں ہاتھ بٹایا، ان میں بعض وہ تھے جنہوں نے آخری زمانے میں اس کام میں شرکت کی ، عام طور سے شرکائے مجلس کے نام ایک جگہ نہیں ملتے، مفتی عزیر الرحمن بجنوری اور ڈاکٹر محمد میاں صدیقی نے ان ناموں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں امام ابو یوسف ، امام محمد ،امام زفر ، حسن بن زیاد،مالک بن مغول، داود طائی ، مندل بن علی، نضر بن عبدالکریم،عمرو بن میمون ، حبان بن علی،ابو عصمہ،زہیر بن معاویہ، قاسم بن معن، حمادبن ابی حنیفہ، ہیاج بن بطام، شریک بن عبد اللہ، عافیہ بن یزید، عبدا للہ بن مبارک، نوح بن دارج، ہشیم بن بشیرسلمی، ابو سعید یحییٰ بن زکریا، فضیل بن عیاض، اسد بن عمر، علی بن مسہر،یوسف بن خالد التیمی، عبد اللہ بن ادریس، فضل بن موسی، حفص بن غیاث، وکیع بن الجراح، یحییٰ بن سعید القطان، شعیب بن اسحاق ، ابو حفص بن عبد الرحمن ، ابو مطیع بلخی، خالد بن سلیمان، عبدالحمید، ابو عاصم النبیل ، مکی بن ابراہیم ، حماد بن دلیل ، ہشام بن یوسف، یحییٰ بن ابی زائدہ وغیرہ ہے ۔( بحوالہ طہارت و نماز کے مسائل)

امام اعظم ابو حنیفہ نے فقہ اسلامی کے مختلف ابواب و مباحث کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور فقہ اکیڈ می کے قیام کے لیے نہایت کام یابی سے ان علوم کے ماہرین کو جمع کیا اور سالہا سال ان کی سرپرستی فرماتے رہے ، مشہور اسلامی اسکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہ  امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں: فقہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق ہے اور قانون کے ماخذوں میں قانون کے علاوہ لغت ، صرف ونحو، تاریخ وغیرہ ہی نہیں ، حیوانات ، نباتات ، بلکہ کیمیاکی بھی ضرورت پڑتی ہے ، قبلہ معلوم کرنا جغرافیہ طبعی پر موقوف ہے ، نماز اور افطارو سحری کے اوقات علم ہیئت وغیرہ کے دقیق مسائل پر مبنی ہیں ، رمضان کے لیے رویت ہلال کو اہمیت ہے اور بادل وغیرہ کے باعث ایک جگہ چاند نظر نہ آئے تو کتنے فاصلے کی رویت اطرا ف پر موثر ہوگی وغیرہ وغیرہ مسائل کی طرف اشارہ سے اندازہ ہوگا کہ نماز روزہ جیسے خالص عباداتی مسائل میں بھی علوم طبعیہ سے کس طرح قدم قدم پر مدد لینے کی ضرورت ہوتی ہے ، کاروبار ، تجارت ، معاہدات، آب پاشی ، صرافہ ، بنک کاری وغیرہ کے سلسلے میں قانون سازی میں کتنے علوم کے ماہروں کی ضرورت ہوگی؟ امام اعظم ابو حنیفہ ہر علم کے ماہروں کوہم بزم کرنے اور اسلامی قانون کو ان سب کے تعاون سے مرتب و مدون کرنیکی کوشش میں عمر بھر لگے رہے اور بہت حد تک کام یاب ہوئے۔(امام ابوحنیفہ کی سیاسی زندگی)

امام اعظم ابو حنیفہ کی اس فقہ اکیڈمی میں جو ممتاز فقہا ء قرآن و سنت کی روشنی میں مسائل جدیدہ کو حل کرتے تھے ان کا علمی پایہ نہایت بلند تھا، بلکہ یہ سب اپنے اپنے فن میں ماہرتھے،ان میں حدیث کے حافظ بھی تھے ، قیاس کے ماہرین بھی ، عربی زبان پر مکمل دست رس رکھنے والے بھی تھے، مولانا عبدالحی فرنگی محلیامام صاحب کے تلامذہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ کے درس میں شریک ہوکر فیض پانے والے تلامذہ اپنے زمانے کے مجتہدین میں سے تھے ، ابو یوسف اخبار اور زبان کے ماہر تھے ، امام محمد کو فقہ ، اعراب اور بیان میں فوقیت حاصل تھی ، امام زفر قیاس میں ممتاز تھے ، حسن بن زیاد سوال اور مسائل کی تفریع میں بلند درجہ رکھتے تھے ، عبد اللہ بن مبارک اپنی اصابت رائے سے مشہور تھے ، زاہد مفسر وکیع بن الجراح اور ذکی و فطین حفص بن غیاث  لوگوں کے درمیان فیصلہ میں مہارت رکھتے تھے، یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کا مقام احادیث کو جمع کرنے اور فروع کو محفوظ کرنے کے اعتبار سے بلند تھا ۔( بحوالہ ترجمان السنة ج 1ص212 )

یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت وکیع بن الجراح کے سامنے کسی شخص نے کہا کہ امام اعظم ابو حنیفہ نے اس مسئلہ میں غلطی کی ہے ، یہ سن کر حضرت وکیع نے کہا ابو حنیفہ کیسے غلطی کرسکتے ہیں؟! جب کہ ان کے ساتھ ابو یوسف اور زفر جیسے قیاس کے ماہر، یحییٰ بن ابی زائدہ ، حفص بن غیاث ، حنان اور مندل جیسے حفاظ حدیث اور قاسم بن معن جیسے لغت کے جاننے والے ، داود طائی اور فضیل بن عیاضجیسے زاہد و متقی شامل ہوں ، اگر وہ غلطی کرتے تو کیا یہ لوگ اس کی اصلاح نہیں کریں گے؟؟ (معجم المصنفین ص52)

مسائل میں بحث و تحقیق
امام اعظم ابو حنیفہ کی قائم کردہ فقہ اکیڈمی میں ایک ایک مسئلہ پر بہت گہری نظر ڈالی جاتی اور ہر مسئلہ کو پوری تحقیق کے بعد قابل عمل قرار دیاجاتا ، مسائل پر بحث و تحقیق کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے علامہ الموفق لکھتے ہیں ایک ایک مسئلہ مجلس کے تمام مجتہدین کے سامنے پیش کیا جاتا، لوگوں کے خیالات کو الٹ پلٹ کر دیکھا جاتا، اراکین مجلس کے دلائل سنے جاتے اور اپنی رائے اور دلائل سے شرکائے مجلس کو مطلع کیاجاتا اور ان سے بحث وتحقیق کی جاتی ، کبھی کبھی ایک ایک مسئلہ کی تحقیق میں پورا مہینہ یا اس سے بھی زیادہ مدت لگ جاتی، یہاں تک کہ مسئلہ کا کوئی ایک پہلو متعین ہوجاتا اور امام اعظم ابو حنیفہ کا یہ انداز تھا کہ وہ کسی پر زور نہیں دیتے یا اپنا مسئلہ کسی پر زبردستی نہیں تھوپتے، بلکہ مجلس کے تمام شرکاء کو آزادانہ مناظرہ کی دعوت دی جاتی اور رائے پیش کرنے پر شرکاء کی حوصلہ افزائی کی جاتی اور مجلس کو بے تکلف بناتے، تاکہ ادب و احترام ، عقیدت و محبت کے باعث قانون سازی کے عمل میں کسی قسم کی کمی نہ رہ جائے ، آپ کے ایک شاگردحضرت عبد اللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ میری موجود گی میں ایک مسئلہ پیش ہوا، اس پر مسلسل تین دن تک بحث و مباحثہ ہوتا رہا اور ارکین اس پر غور وخوص کرتے رہے( مناقب الامام ابی حنیفة) مشہور محدث امام اعمش مجلس کے حالات کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس مجلس کے سامنے کوئی مسئلہ آتا ہے تو حاضرین اس مسئلہ کو اس قدر گردش دیتے ہیں اور الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں کہ بالآخر اس کا حل روشن ہوجاتاہے۔ (مناقب امام ابو حنیفہ 2۔30)اسد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ امام صاحب کی مجلس میں پہلے ایک مسئلہ کے مختلف جوابات دیے جاتے، پھر جس کا جواب سب سے زیادہ محقق ہوتا آپ اس کی توثیق کرتے اور ہمت افزائی کرتے اور وہ جواب دیوان میں لکھ لیا جاتا۔ (نصب الرایہ مقدمہ ج1 ص23) سیرت ائمہ اربعہ میں ہے کہ تدوین فقہ کا طریقہ یہ تھا کہ کسی بات کا مسئلہ پیش کیا جاتا، اگر اس کے جواب میں سب لوگ متفق ہوتے تو اسی وقت قلم بند کر لیا جاتا اور نہایت آزادی سے بحثیں شروع ہوتیں، کبھی کبھی عرصہ دراز تک مباحثہ چلتا رہتا ۔امام اعظم بہت غور و تحمل کے ساتھ سب کی تقریریں سنتے اور آخر میں ایسا فیصلہ فرماتے کہ سب کو تسلیم کرناپڑتا ۔کبھی ایسا بھی ہوتا کہ امام صاحب کے فیصلہ کے بعد بھی لوگ اپنی اپنی رائے پر قائم رہتے ۔ اس وقت تمام مختلف فیہ اقوال قلم بند کر لیے جاتے اور اس بات کا خاص التزام کیا جاتا کہ جب تک تمام حضرات شریک نہ ہوتے کسی مسئلہ کو طے نہ کیا جاتا۔ تمام شرکائے مجلس حاضر ہو جاتے اور اتفاق کر لیتے، تب وہ مسئلہ تحریر کیا جاتا، اس طرح تیس سال کے عرصہ میں یہ عظیم الشان کا م پایہ تکمیل کو پہنچا۔(سیرت ائمہ اربعہ)

بعض اہم عصری موضوعات پر غورو خوض
امام اعظم ابو حنیفہ کی مجلس اجتہاد میں بعض اہم عصری موضوعات زیر تحقیق لائے گئے ، امام اعظم ابو حنیفہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے کتاب الفرائض اور کتاب الشروط وضع کیے ، قانون بین المالک، جو تاریخ کا حصہ سمجھا جاتا تھا، اس کو تاریخ سے الگ کرکے مستقل فقہی چیز قراردیا گیا اور کتاب السیر مرتب ہوئی، جس میں صلح اور جنگ کے قوانین مدون ہوئے ، اس طرح ایک ضخیم مجموعہ قوانین تیار ہوا، جو متعدد کتب کی شکل میں اس دور میں موجود رہا ، بعد میں اسے امام محمد  نے مزید منقح کرکے مدون کیا اور یہی مجموعہ فقہ حنفی کی اساسی کتب ہیں ۔( تدوین فقہ اور امام ابو حنیفہ کی خدمات)

فقہ اکیڈمی میں اجتہاد کا طریقہ کار
امام اعظم ابو حنیفہ کی قائم کردہ فقہ اکیڈمی میں مسائل پر غور و خوض کرنے کا وہی طریقہ تھا جو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ نے اختیار کیا تھا،بالخصوص سیدنا عبداللہ بن مسعود ، سیدنا علی، قاضی شریح ، ابراہیم نخعی ،حماد اور دیگر ہم عصر فقہاء و مجتہدین کے فیصلوں کو کافی اہمیت دی جاتی ، ڈاکٹر صحبی محمصانی اجتہاد کے طریقہ کار کے بارے میں امام اعظم ابو حنیفہ کا اپنا قول نقل کرتے ہیں اگر کتاب اللہ اور سنت رسول صلی الله علیہ وسلم دونوں میں مسئلہ نہ مل سکے تو اقوال صحابہ سے اخذ کرتا ہوں ،جس کا قول چاہتاہوں لے لیتا ہوں اور جس کا قول چھوڑنا چاہوں ترک کردیتا ہوں اور ان کے اقوال سے کسی دوسرے کے قول کی طرف تجاوز نہیں کرتا ، لیکن جب معاملہ ابراہیم نخعی ، شعبی، ابن سیرین ، حسن بصری، عطا اور سعید بن جبیر تک پہنچتا ہے تو وہ اجتہاد کرنے والے لوگ تھے ، ہمیں بھی ان کی طرح اجتہاد کرنے کا حق حاصل ہے۔ (فلسفة التشریع فی الاسلام)

اسی طرح علامہ عبد البر نے اپنی کتاب میں تحریر کیاہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ ہمیشہ معتبر قول کی طرف رجوع فرماتے ،قول ضعیف کو ترک کرتے ، عوام کے معاملات میں غور و فکر کرتے اور قیاس سے کام لیتے ، مگر جب قیاس سے کسی قسم کے فساد کا اندیشہ ہوتا تو لوگوں کے معاملات کا فیصلہ استحسان سے کرتے ، جب اس سے بھی معاملات بگڑتے نظر آتے تو مسلمانوں کے تعامل کی طرف رجوع کرتے ، جس حدیث پر محدثین کا اجماع ہوتا اس پرعمل کرتے، جب تک مناسب سمجھتے اسی پر اپنی قیاس کی بنیاد کھڑی کرتے، پھر استحسان کی طرف توجہ فرماتے ، آ پ احادیث میں ناسخ و منسوخ کی تحقیق فرماتے، جب کوئی حدیث مرفوع ثابت ہوجاتی تو اس پر سختی سے عمل کرتے۔ (الانتقاء فی فضائل الثلاثة الفقہاء ص141)

ان اقوال سے ثابت ہوا کہ امام صاحب کی فقہ اکیڈمی میں جدید مسائل کا حل پہلے قرآن و سنت میں تلاش کیا جاتا ہے؛ کیوں کہ یہ دونوں اصل الاصول ہیں اور دین کا سرچشمہ ، جس سے کسی عقل مند کو انکار نہیں ، پھر صحابہ کے اقوال یا قضایا سے استدلال کیا جاتا صحابہ جس بات پر متفق ہوں امام صاحب اس پر عمل کرتے ہیں اور اگر صحابہ میں اختلاف پایا جائے تو علت مشترکہ کی بنیاد پر ایک صورت کو دوسری صورت پر قیاس کرتے ۔

حل شدہ مسائل کی تعداد
حنفی فقہ اکیڈمی کا قیام 120ھ میں ہوا اور150 ھ تک قائم رہی، ان تیس سالوں کی جہد مسلسل کے بعد ایک ایسا مجموعہ تیار کیا گیا جس کی تعداد کے بارے میں تذکرہ نگاروں کے مختلف اقوال ملتے ہیں ، چناں چہ علامہ خوارزمی نے ان کی تعداد تراسی (83) ہزار لکھی ہے، جن میں اڑتیس ہزار کا تعلق عبادات سے ہے اور باقی کا معاملات سے ، جب کہ بعض حضرات نے چھ لاکھ اور بعض نے بارہ لاکھ سے بھی زیادہ ذکر کیا ہے۔ مشہور محقق مولانا مناظر احسن گیلانی کا خیال ہے کہ اس تعداد میں ان مسائل کو بھی شامل کرلیا گیا ہے جو امام اعظم کے مقرر کردہ اصول و کلیات کی روشنی میں مستنبط کیے گئے تھے۔(قاموس الفقہ ج 1ص360)

اگر تراسی ہزار کو ہی مان لیا جائے تو یہ تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے ۔

بہر حال فقہ حنفی دنیا کی وہ عظیم فقہ ہے جس کی ترتیب و تدوین میں پوری ایک جماعت کا حصہ ہے اور وہ صیقل شدہ ہے، یعنی حکومت اورکارقضا اس کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے پیش آمدہ مسائل کاحل اس نے پیش کیاہے اورلوگوں کو جو مختلف طرح کے معاملات پیش آتے ہیں اس میں راہ نمائی کی ہے، تیرہ صدیوں سے وہ تجربات کی بھٹی میں تپ کر کندن ہوچکی ہے، اس لیے بلا خوف تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اگرکوئی مذہب اورمسلک تجربات کی بھٹی میں تپ کر کندن ہواہے اور مضبوط شورائی نظام کے ذریعہ اس کی ترتیب عمل میں آئی ہے تووہ صرف فقہ حنفی ہے ،وہ اب تک زندہ اور پایندہ ہے، دوسری خاص بات یہ بھی ہے کہ امام ابویوسف،امام محمد اورامام زفر اگرچہ خود اپنی جگہ مجتہد مطلق تھے، لیکن ان کے اقوال امام اعظم ابوحنیفہ کے اقوال کے ساتھ ہی کتابوں میں ذکرکیے گئے ہیں لہٰذا یہ سب مل ملاکر فقہ حنفی ہوگئے ہیں۔ جس کی وجہ سے فقہ حنفی کادائرہ بہت وسیع ہوگیاہے۔

Leave a Response

error: Content is protected !!