Monday, October 22, 2018
اسلامک

تسخیر کائنات اور اسلام

39views

مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ

دین اسلام اور دین اسلام کی آسمانی کتاب قرآن کریم کا مقصد انسانیت کی تکمیل ہے، یعنی انسان کو درندوں وحیوانات کی صف سے نکالا جائے اور اس کی ایسیتربیت کی جائے او رایسے اعلیٰ اچھے اخلاق سے آراستہ کیا جائے کہ وہ دنیا میں باعزت اور پرسکون زندگی سے سرفراز ہو سکے اور عظیم الشان کارخانہٴ قدرت کے خالق ومالک کی خوش نودی حاصل کرسکے۔

وحی آسمانی او رہدایات وتعلیمات نبوی کا مرکزی نقطہ یہی ہے کہ انسان حق تعالیٰ کی (جو اس کائنات کا خالق ومالک ہے ) معرفت تک رسائی حاصل کر سکے اوراس تخلیقی نظام کے نتائج پر غور کرے اور اس کے فوائد ومنافع اور آثار وثمرات کو سمجھے او ران سے فائدہ اٹھا کر شکر بجا لائے، انسان کی اپنی ذات اورکائنات میں خدا تعالیٰ کی واضح آیات ودلائل میں غور وخوض کرکے خالق ومالک کی عظمت وجلال کا گرویدہ ہو جائے او رانسان اپنی قیمت بھی سمجھ لے کہ اس کائناتی نظام کا مقصد انسان کی تکمیل حیات اور خدمت ہے اورانعام کرنے والی ذات کی ان حیرت انگیز نعمتوں کا دل وجان سے شکر ادا کرے۔ نیز حقائق ومعارف کی گہرائیوں تک پہنچ جائے کہ یہ تمام کارخانہ، جو اس ملکوتی عجائب قدرت پر مشتمل ہے ”بے مقصد تخلیق“ نہیں، بلکہ کوئی اہم مقصد پیش نظر ہے اور دل کی گہرائیوں سے اس حقیقت کا اعتراف کرے کہ یہ جو انسان کی فانی حیات ہے ،اس کے لیے ربوبیت کا یہ حیرت افزا نظام وجود میں آیا ہے اور وحی الہٰی کا وہ پیغام جس کی خبر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم تک تمام انبیا دیتے رہے کہ یہ دو ر عبوری دور ہے اور یہ زندگی فانی زندگی ہے او راس کے بعد ایک جاودانی زندگی کا دور ضرور آنے والا ہے، اس پیغام کا دل وجان سے اعتراف کر لے اور یہ کہ ان تمام مظاہر قدرت میں قدم قدم پر اس جاودانی زندگی کے روشن دلائل موجود ہیں، تاکہ کسی بھی طرح عقل انسانی اس کا انکار نہ کرسکے اور حق تعالیٰ کی حجت پوری ہو جائے۔

حق تعالیٰ شانہ نے انسان کو عقل وادراک جیسی نعمت عطا فرمائی اورملکوتی روح سے سرفراز فرمایا، جس کے اسرار سر بستہ کی عقدہ کشائی سے بیالوجی ( علم الحیوة) والے بھی حیران او رعاجز ہیں، خصوصا آج کے دور میں عقل کی ایجادات واختراعات نے کیسے کیسے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے ہیں، تاکہ عقلی پرواز کے ان فوق العادت کمالات کو دیکھ کر اس کے خالق کی عظمت کا اعتراف کیا جائے۔

بلاشبہ عقل کی جتنی پختگی ہو گی نسل انسانی اس سے فائدہ اٹھائے گی۔ جدید سے جدید اختراعات وجود میں آئیں گی، بجلی، ٹیلی فون، ریڈیو، ٹیلگراف، ٹیلیویژن، لاسلکی نظام ،ہوائی جہاز وغیرہ سینکڑوں عجائبات، جو آج کل سامنے آرہے ہیں، تمام عقلی کمالات کے آثار ومظاہر ہیں۔

ایک سے ایک بڑھ کر عجائبات سامنے آرہے ہیں۔ عقلی ادراکات وایجادات ہی نے آلات تلسکوبیہ اور آلات میکر وسبیہ کی اختراعات کے بعد اسرار وتخلیق کے کتنے راز ہائے سربستہ کی عقدہ کشائی ہے۔

خلاصہ یوں سمجھ لیجیے کہ حق تعالیٰ نے اس دنیا میں جہاں عقلا وحکما، فلاسفہ وسائنس دان پیدا کیے، ساتھ ہی ساتھ انبیا ورسل کا سلسلہ بھی جاری فرما دیا، تاکہ عقل کی طغیانیحد سے نہ بڑھ جائے، حضرت ادریس علیہ السلام کے عہد ہی سے حکما وعقلا کا سلسلہ جاری ہو گیا، ادریس علیہ السلام کا عہد حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی پہلے ہے، اس لحاظ سے وہ تاریخی دور سے بہت پہلے کی شخصیت ہیں تو گویا حکما کا دور بھی اسی وقت سے شروع ہوتا ہے اورکچھ بعید نہیں کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی راہ نمائی میں ابتدا میں یہ حکما کام کرتے ہوں گے ۔ لیکن انبیاکی راہ نمائی سے استغنا کیا ہو گا تو ٹھوکریں کھانا شروع کی ہوں گی، فیثا غورث، بطلیموس، پھر وادیٴ، بابل ونینوی میں حکمائے صائبین، پھر ہندوستان میں ارجہد سے لے کر روما ویونان کے سقراط، بقراط، افلاطون، وارسطو،ابرخس وار سطراطیس وغیرہ وغیرہ، سینکڑوں حکما عالم کے گوشے گوشے میں پیدا کیے، تاکہ ملکوت کے مشاہدے سے کائنات کے اسرار کا انکشاف ہوتا رہے، لیکن حیات بعد الممات کے حقائق کے ادراک سے یہ حکما وعقلا عاجز رہے، اگر چہ یونان کے حکما نے الہیٰات کی طرف بڑی توجہ دی، لیکن ظاہر ہے کہ یہ حقائق عقل کے دائرہ ادراک وامکان سے باہر تھیں، اس لیے ٹھوکریں کھائیں اور ناکام رہے۔

اس کے برعکس انبیاء علیہم السلام کا منصب ان ہی حقائق کو بیان کرنا ہوتا ہے جن کے ادراک سے حکما وعقلا عاجز رہے ہوں۔ عقل کا دائرہ تحقیقات، مشاہدات وتجربات تک محدود ہوتا ہے، حق تعالی نے عقل کی تخلیق ضرور فرمائی اور اس میں یہ حیرت انگیز صلاحیت بھی رکھی کہ وہ اسرار عالم مادی کی عقدہ کشائی کرسکے، لیکن وحی الہٰی کا منصب اور نبوت کا مقام، یعنی الہٰیات اور مابعد الطبیعات، نیز عقل وادراک سے بالاترحقائق الہیہ کا دائرہ حکما کی دست رس سے بالاتجویز فرما دیا۔

بہرحال ”دین اسلام“ یا شریعت اسلامیہ نام ہے اس عالم گیر نظام انسانیت کا جس میں تکمیل انسانیت کے کسی گوشے کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ خالق کائنات سے رشتہ ہو یا مخلوق سے اور وہ بھی شخصی زندگی سے متعلق ہو یا اجتماعی زندگی سے، غرض عبادات ہوں یا معاملات ، معیشت ومعاشرت ہو یا احوال واخلاق واعمال، ان سب کے لیے ایک علمی دستور اور مقصدونصب العین ہے، دین اسلام کا علمی دستور قرآن کریم اورمقصودرضائے الہی ہے کہ دنیا کے عبوری دور میں رضائے الہی اور تکمیل انسانیت کی جلیل القدر خدمات انجام دے کر ہمیشہ رہنے والی نعمتوں اور لازوال حیات طیبہ کا مستحق ہو جائے۔

قرآن حکیم انسانیت کی تکمیل چاہتا ہے اور اس کے لییاس نے اسلام کے بنیادی اصول واحکام اور اساسی اغراض و مقاصد انتہائی حیرت کن اورمعجزانہ اسلوبِ بیان کے ساتھ واضح کر دیے ہیں۔ ان مقاصد وسلسلہٴ بیان میں وہ مظاہرقدرت اور آثار قدرت کو بھی اگر بیان کرتا ہے تو اس کا مقصود بھی یہی ہے کہ انسان کے فکری اور اعتقادی پہلوؤں کی تکمیل کی جائے۔اگر وہ تاریخی حقائق بیان کرتا ہے تو اس کی غرض بھی یہی ہے کہ ان عبرت انگیز وقائع تکوینی اور آیات سے انسانی بصیرت واعتبار کی تربیت وتکمیل کی جائے، اگر احکام الہیہ کا ذکر ہو گا تو اس سے مراد بھی یہی ہو گی کہ اشرف المخلوقات بنانے کی تدبیر ہو جائے۔ ذات وصفات کی توحید وکمال کا بیان ہو یا اصول واحکام کی تمہید وانضباط، ان سب ہی سے انسان کو انسانیت کی معراج تک پہنچا دینا مقصود ہے۔

قرآن کریم نہ تاریخی کتاب ہے کہ محض واقعات کی تفصیل ہی بیان کرتا رہے اور نہ ہی طبعی نوامیس کی تفصیل وبیان پر مشتمل کتاب طبیعات ہے کہ محض علمی اور ذہنی عیاشی کے افسانوں میں وقت ضائع کرے۔ وہ تاریخ کی روح پیش کرتا ہے اور طبیعات کے فکر وعمل کے نتائج بیان کرتا ہے، جس سے توحید الہٰی، خلق وربوبیت کے حقائق انسان کے دل ودماغ میں پیوست ہوں اور روح کو پاکیزگی حاصل ہو، تاکہ وہ نظام عالم میں خلیفة الله کے منصب اعلی کے تقاضوں کو پورا کرنے کا اہل بن جائے، قرآن اگر کائنات میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے تو اس کی غرض وغایت یہی ہوتی ہے کہ انسانی ذہن وفکر کے سامنے الله تعالیٰ کی معرفت کا راستہ کھل جائے او راس غور وفکر کے بصیرت آموز نتائج سے ایمان با نصیب کی تائید اور پرورش ہو ،اس لیے کہ ان حقائق کو نیہ او رحقائق الہیہ میں غور وخوض سے ایمان قوی ہو گا۔ وہ اُن کی طرف محض علم وفن کی حیثیت سے کبھی دعوت نہیں دیتا کہ محض فن ہی کو مقصد بنا لیا جائے یا دنیا میں محض برتری یا عالم انسانیت پر پنجہٴ استبداد مضبوط کرے۔

قرآن کریم کے بعض جدید مفسرین کو اس سلسلہ میں بڑی غلط فہمی ہوئی ہے، انہوں نے ان موضوعات میں محض قرآنی مباحث کی تفسیر او ران مباحث کی غرض وغایت بیان کرنے میں بڑے غلو سے کام لیا ہے اور یہ حقیقت ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی ہے کہ قرآن اگر طبیعیات میں غور وفکر کی دعوت دیتا ہے تو اس کا مقصد بھی معرفت الہی تک پہنچنا ہے اور کسی جگہ ان طبعی مسائل کو خدمت خلق کا ذریعہ بنایا جائے، نہ یہ کہ صرف مال ودولت اور ثروت کا ذریعہ بنایا جائے۔ ظاہر ہے کہ ذات وصفات الہی کے بحرِ بیکراں میں شناوری کا صرف یہی ایک راستہ ہے کہ انسان ان حقائق میں غور کرے، تاکہ اس وادی میں ان کے فکر ونظر کی صلاحیتیں زیادہ وسیع ہوں اور ان کے سامنے معرفت الہٰیہ کے نئے نئے باب کھلیں او رجب اس طرح قلب وروح کی تربیت ہو جائے او رانسانیت کا صحیح شعور بیدار ہو جائے تو عملی دائرہ کا صحیح مقصد بھی خود بخود متعین ہو جاتا ہے۔

اس تمام بحث وتفصیل کا حاصل یہ ہے کہ الغرض کائنات حق تعالیٰ کے کمالات قدرت اور صفات جلال وجمال کا ایک صحیفہ ہے ،جس کے مطالعے سے اور اس میں غور وفکر کرنے سے ایمان میں پختگی پیدا ہوتی ہے اور اس حیثیت سے طبیعیات کے جدید علوم ان اصحاب کے لیے بلاشبہ بصیرت افزا اور بے حد بصیرت افروز ہیں، جن کو وحی والہام اور مکاشفہ کی راہ سے وصول الی الله حاصل نہ ہو، معرفت الہٰیہ ان علوم پر منحصر نہیں ہے، بلکہ ظاہر بین اصحاب کے لیے حصول معرفت کا یہی ایک راستہ باقی رہ گیا ہے۔

علمی معارف کے بعد عملی نتائج ہیں اور اس علم وعمل سے حقیقی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایمان بالله، ایمان بالرسل اور ایمان بالآخرة کے علاوہ کوئی دوسری راہ نہیں ہے، ایمان ویقین سے محرومی اور بے مقصد علم وعمل ہی کی وجہ ہے کہ روس، امریکا اور یورپ کی قومیں ان سائنسی ترقیات اور محیر العقول ایجادات واختراعات کے باوجود انسانیت کی صفوں سے نکل کر پوری درندگی کی حدود تک پہنچ چکی ہیں ۔ نبوت ختم ہوچکی ہے۔ اس لیے معجزات نبوت اور انبیا کے خوارق کی جگہ الله تعالیٰ ان علمی راہوں سے ان پر اپنی حجت پوری کر رہا ہے اور خود ان ہی کے ایجاد کردہ علوم سے ان حقائق کو اس نے واشگاف کر دیا ہے کہ بے شعور طبیعیات اور اس کے ان حیرت انگیز مظاہر اور حیرت افزا خواص ومنافعمیں کرشمہ الہٰیہ کے اعتراف کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں ہو سکتی۔

ایک طرف سائنس کی موجودہ ترقیات اور حیرت انگیز ایجادات واختراعات کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ الله تعالیٰ نے انسانی عقل میں کیا کیا صلاحیتیں رکھی ہیں او رجب ان صلاحیتوں سے کام لیا گیا ہے تو عقل نے کہاں تک رسائی حاصل کر لی ہے!! ان چیزوں کو دیکھ کر سائنس دانوں کے کمالات کا اعتراف کرنا پڑ تا ہے، لیکن یہ صورت کمال کا صرف ایک ہی رُخ ہے۔ اس تصویر کا دوسرا رُخ دیکھیے کہ ان آیات قدرت اور عجائبات خلق وتکوین کو دیکھنے کے بعد بھی وہ اب تک الله تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے او رایمان بالله کی دولت سے محروم ہیں… تو حیرت ہوتی ہے کہ یہی عقلا ،فکر ونظر کے اس رُخ پر اس قدر جاہل کیسے رہ گئے؟ لیکن حق تعالیٰ ان کے اس کفر وانکار کی حقیقت سے بھی پردہ اٹھاتا ہے۔ ارشاد ہے۔

”وہ حیات دنیا کے ظاہر ہی میں سے کچھ جانتے ہیں اور یہی لوگ آخرت سے تو بالکل غافل ہیں۔“

دنیا کا بھی ظاہر اور وہ بھی مکمل طور پر بہت محدود مقدار میں جانتے ہیں۔ ان کا ذہن او ران کی فکر ونظر اس طرف بالکل نہیں جاتی کہ اس حیرت انگیز کائنات اور پُراسرار حقائق مخلوقات کے خالق پر ایمان لائیں۔ ایک طرف ذہانت او رحیرت انگیز ذہانت اور دوسری طرف اس قدر غباوت اور غیر معمولی غباوت بجائے خود کس قدر عجیب اور حیرت ناک ہے اور حق تعالیٰ کے اس ارشاد کی صداقت کتنی سچی گواہی ہے۔

”الله جس کو روشنی نہ دے تو اس کے لیے کہیں روشنی نہیں ہے۔“

اس بحر محیط کے چند قطرے مناسب ہیں۔ اس مختصر سی تمہید کے بعد ہم وحی ربانی قرآن کریم کی زبانی پیش کرتے ہیں۔ ارشاد ہے:
”بلاشبہ آسمانوں اور زمین کے بنانے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں دلائل ہیں اہل عقل کے لیے، جن کی حالت یہ ہے کہ وہ لوگ الله تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں کھڑے بھی او ربیٹھے بھی اور لیٹے بھی اور آسمانوں اور زمین کے پیدا ہونے میں غور کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! آپ نے اس کو لایعنی پیدا نہیں کیا، ہم آپ کو سمجھتے ہیں ،سوہم کو عذاب دوزخ سے بچا لیجیے۔“

”اور ایک اور نشانی ان لوگوں کے لیے رات ہے کہ ہم اس پر سے دن کو اُتار لیتے ہیں ،سویکا یک وہ لوگ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں اور آفتاب اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے ۔ یہ اندازہ باندھا ہوا ہے اس کا جو زبردست علم والا ہے، نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کو جاپکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور دونوں ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں۔“

”الله ایسا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا۔ پھر اس پانی سے پھلوں کی قسم سے تمہارے لیے رزق پیدا کیا اورتمہارے نفع کے لیے کشتی کو مسخر کیا، تاکہ وہ خدا کے حکم سے دریا میں چلے اور تمہارے نفع کے واسطے نہروں کو مسخر کیا او رتمہارے نفع کے واسطے چانداورسورج کو مسخر کیا، جو ہمیشہ چلتے ہی رہتے ہیں او رتمہارے نفع کے واسطے رات اور دن کو مسخر کیا۔“

الله ایسا ہے کہ اس نے آسمانوں کو بدون ستون کے اونچا کھڑا کر دیا،چناں چہ تم ان کو دیکھ رہے ہو پھر عرش پر قائم ہوا اور آفتاب او رمہتاب کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک، ایک وقت معین پر چلتا رہتا ہے، وہی ہر کام کی تدبیر کرتا ہے، دلائل کو صاف صاف بیان کرتا ہے، تاکہ تم اپنے رب کے پاس جانے کا یقین کر لو۔“

”اور اس نے تمہارے لیے رات اور دن اورسورج کو مسخر بنایا اور ستارے اس کے حکم سے مسخر ہیں، بے شک اس میں عقل مند لوگوں کے لیے چند دلیلیں ہیں اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ وہ کون ہے جس نیآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور جس نے سورج او رچاند کو کام میں لگا رکھا ہے؟ تو وہ لوگ یہی کہیں گے کہ وہ الله ہے، پھر کدھر الٹے چلے جارہے ہیں؟!“

”کیا تم لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ الله تعالیٰ نے تمام چیزوں کو تمہارے کام پر لگا رکھا ہے او رجو کچھ آسمانوں میں ہے او رجو کچھ زمین میں ہیں اور اس نے تم پر اپنی نعمتیں ظاہری اور باطنی پوری کر رکھی ہیں۔“

”اے مخاطب! کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ الله تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے او راس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ ہر ایک وقت مقررہ تک چلتا رہے گااوریہ کہ الله تعالیٰ تمہارے سب عملوں کی پوری خبر رکھتا ہے۔“

”وہ رات کو دن میں داخل کر دیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے اور اس نے سورج او رچاند کو کام میں لگا رکھا ہے۔ ہر ایک وقت مقررہ تک چلتے رہیں گے، یہی الله تعالیٰ تمہارا پروردگار ہے، اسی کی سلطنت ہے، بے شک تمہارا رب الله ہی ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا، پھر عرش پر قائم ہوا۔ چھپا دیتا ہے سب سے دن کو ایسے طور پر کہ وہ شب اس دن کو جلدی سے آلیتی ہے اور سورج اور چاند او ردوسرے ستاروں کو پیدا کیا۔ ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو ! الله ہی کے لیے خالق ہونا اور حاکم ہونا ہے، بڑی خوبیوں کے بھرئے ہوئے ہیں الله تعالیٰ، جو تمام عالم کے پرورد گار ہیں۔“

”اور منجملہ اس کی نشانیوں کے رات ہے اور دن ہے اور سورج ہے اور چاند ہے۔ تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو کرو اور اس خدا کو سجدہ کرو جس نے ان نشانیوں کو پیدا کیا۔ اگر تم کو خدا کی عبادت کرنا ہے۔“

”ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں ان کے گرد نواح میں بھی دکھائیں گے او ران کی ذات میں بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ وہ قرآن حق ہے، کیا آپ کے رب کی یہ بات کافی نہیں کہ وہ ہر چیز کا شاہد ہے؟“

”آپ سے چاند کے مختلف حالات کی تحقیقات کرتے ہیں ،آپ فرما دیجیے کہ وہ چاند ایک آلہٴ شناخت اوقات ہے لوگوں کے لیے اور حج کے لیے۔“ (بقرہ)

”وہ الله ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا، اس کے لیے منزلیں مقرر کیں، تاکہ تم برسوں کی گنتی او رحساب معلوم کر لیا کرو۔ الله تعالیٰ نے یہ چیزیں بے فائدہ پیدا نہیں کیں۔ وہ یہ دلائل ان لوگوں کو صاف صاف بتلا رہے ہیں جو دانش رکھتے ہیں۔ بلاشبہ رات اور دن کے لیے یکے بعد دیگرے آنے میں اور الله نے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے۔ ان سب میں ان لوگوں کے واسطے دلائل ہیں جوڈر مانتے ہیں، جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے اور دنیوی زندگی پر راضی ہو گئے اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں اور جو لوگ ہماری آیتوں سے بالکل غافل ہیں، ایسے لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے۔“ (یونس)

اس سے پہلے کہ ہم کلمہٴ تسخیر کے معنی بیان کریں۔ قرآن کریم کی ان آیات ربانی سے سرسری طور پر جن حقائق کی طرف راہ نمائی ہوتی ہے ان کو اجمالا پیش کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔
1.یہ تمام کارخانہٴ قدرت، جس میں آسمان، زمین، چاند، سورج، سمندر اور دریاؤں کا حیرت انگیز نظام، جسے نظام شمسی کہا جاتا ہے۔ قائم ہے، یہ پورا نظامِ عالم انسان کی خدمت وآسائش کے لیے ہے۔
2.یہ تمام عالم ملکوت حق تعالیٰ کی تخلیق کا نتیجہ ہے، اسی کے تصرف میں ہے، اسی کے قبضہٴ قدرت میں ہے اور یہ سب کچھ اس کی عظمت وجلال کی نشانیاں ہیں۔
3.ان ملکوتی عجائب میں غور کرنے والے یقینا خالق کائنات کی عظمت کے قائل ہوں گے اور اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ یہ کارخانہ کسی عظیم ترین مقصد کا پیشہ خیمہ ہے اور اس کا نتیجہ فوق العادت نکلنے والا ہے، نہ یہ از خود وجود میں آیا ہے ،نہ ہی بے مقصد ہے ۔ یہ تخلیق بھی اس کی ہے اور اس پر اقتدار تصرف بھی اسی کا ہے۔
4.چاند ، سورج اور رات دن کا یہ چکر اس دنیا کے نظام سے وابستہ ہے او رایک وقت آئے گا کہ یہ پورا نظام ختم ہو گا، جب تک وہ وقت نہیں آئے گا اسی طرح ہمیشہ ہمیشہ چلتا رہے گا۔
5.چاند، سورج کے جہاں او رمنافع ہیں۔ مہینوں اور برسوں کا حساب اور اوقاتِ کار کا تعلق بھی ان سے وابستہ ہے۔ تاکہ دنیا کے کاروبار کے اوقات اور عبادات کے اوقات، خصوصاً حج کا موسم معلوم ہوتا رہے۔
6.چاند کی منزلیں مقرر کی گئی ہیں، تاکہ ان سے پورے مہینے کے دنوں کا حساب معلوم ہوتا رہے۔
7.ان آسمانی اور ذہنی حقائق پر غور کر و اور ان کی تخلیق کے رازوں سے زیادہ توجہ اس طرف کرو کہ کتنے عظیم فوائد اور منافع ان سے وابستہ ہیں۔
8.صحابہ کرام رضی الله عنہم نے چاند کے گھٹنے بڑھنے کی علت اور سبب دریافت کیا۔ جواب میں سبب بتلانے کی بجائے مقصد سے آگاہ کیا گیا کہ یہی معلوم کرنا اہم اور کارآمد ہے، باقی سبب وعلت یہ تو عقلی چیز ہے، خود مشاہدات وتجربات سے سمجھ جائیں گے۔ اصلی مقصد اس نظام کیمنشائے قدرت کو سمجھنا، ہونا چاہیے۔ سو اس کو بتلا دیا۔

تسخیر کے معنی
عربی زبان میں تسخیر کے معنی ہیں کسی چیز کو اپنے ارادہ کے تابع کر لینا یا کام میں لگا لینا اور اس طرح مجبور کرنا کہ وہ خلاف نہ کرسکے۔ چاند، سورج ، رات، دن اور کائنات کے تمام سیاروں او رتاروں کی تسخیر کی حقیقت یہ ہے کہ ان سب کو حق تعالیٰ نے ایک ایسے نظام میں منسلک کر دیا ہے کیا مجال ہے کہ اس مقرر کردہ نظام سے سرموتجاوز کر سکیں، حق تعالیٰ کے تکوینی اور تخلیقی نظام کے مطابق یہ سب اپنے اپنے مدارات پر معلق ہیں، ایک نظام کے تحت چل رہے ہیں، یعنی اپنا اپنا کام انجام دے رہے ہیں اور یہ تسخیر محض حق تعالیٰ کے ارادہ واختیار اور تصرف واقتدار کا کرشمہ ہے، انسانی دست رس سے بالاتر ہیں۔ یہ تسخیر شدہ کائناتی اشیا، اشیائے کو نیہ ہیں او ران کو مسخر کرنے والی صرف حق تعالیٰ کی ذات ہے اور جس کے لیے ان کو تسخیر کیا گیا وہ حضرت انسان ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس حقیقت کی رو سے انسانی ارادہ واختیار اور تصرف واقتدار کو اس نظام کائنات میں ذرہ برابر بھی دخل نہیں۔ نہ اس نظام کو روک سکتا ہے، نہ بدل سکتا ہے، انسان کی پرواز زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اس کو ان کے فوائد ومنافع کا علم ہو جائے او ران سے فائدہ اٹھائے۔ باقی فائدہ اٹھانے کی صلاحیت واہلیت ہر زمانہ میں اور ہر دور میں عقل وفہم اور آلات ووسائل کی توانائی پر موقوف ہے ۔ فطرت کا تقاضا بھی یہی ہے، دیکھیے! ایک بچہ بہت کم بوجھ اٹھا سکتاہے۔ ایک نوجوان بہت زیادہ بوجھ اٹھا سکتا ہے ،جس طرح یہ مادی اورجسمانی کیفیات جو حالات کے اعتبار سے مختلف ہیں ،ٹھیک اسی طرح عقل وادراک کی قوتیں بھی حالات کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ حق تعالیٰ کی کائنات سے سابقہ حکماء کی عقلیں محدود فائدے حاصل کرتی رہیں۔ آج کے سائنس دانوں کی عقول نے سائنسی آلات کے ذریعہ ایسے بے شمار فوائد ومنافع حاصلکیے جن کا تصور بھی حکما ئے سابقین کو نہ تھا۔ لباس، پوشاک، تجارت، صنعت وحرفت، نوبہ نو ایجادات واختراعات وغیرہ، یہ تمام اشیا جس مرحلے پر آج پہنچ گئی ہیں اس کے عشرعشیر کا ذکر بھی ماضی بعید میں تو کیا، ماضی قریب میں بھی افسانے معلوم ہوتے تھے۔ اس دریافتکا نام تسخیر رکھنا صحیح نہیں ہو سکتا۔ یہ تو عقلی ترقی ہے یاتمدن کی ترقیات ہیں، یہ تمام مادی اشیا تو حق تعالیٰ نے انسان کے انتفاع کے لیے تسخیرو تخلیق فرمائی ہیں۔ وہی ان اشیا کا خالق ،وہی ان کا تسخیر کنندہ ہے۔ رہے حضرت انسان توہر دور، ہر زمانہ میں انسانی عقول اپنے اپنے محدود دائرے میں ان سے انتفاع کرتی رہی ہیں اور فائدے اٹھاتی رہی ہیں، انسان نے اپنی فکری اور تجرباتی کاوش سے یہ تو کر لیاکہ انسان کے جسم سے خون نکال کر اسے محفوظ کر لیا اور بوقت ضرورت دوسرے آدمی کے چڑھا دیا اور مان لیجیے اس کی جان بچ گئی، لیکن آج تک انسان سے یہ نہ ہو سکا اور نہ ہوسکے گا کہ کسی لیبارٹری میں پھلوں اور غذاؤں سے خون تیار کر سکیں۔ قدرت الہیٰ کے کرشموں کا دائرہ اور ہے، انسانی قدرت تصرفات کا دائرہ اور ہے، یہ تو ہوا کہ انسان چاند پر پہنچ گیا۔ لیکن چاند، سورج کے نظام سے رات اور دن کا جو نظم قائم ہے اس میں تصرف یا کسی قدر تبدیلی کرسکے ناممکن ہے، مثلاً جہاں رات 12 گھنٹہ ہے، اسے13 گھنٹہ کی کر دیں اور رات کا وقت کچھ کم کر دیں۔

تسخیر کائنات کامطلب تو یہ ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ نے جو کائنات کا نظام مقرر فرمایا ہے اس میں انسان تصرف کر سکتا ہو یا وہ نظام انسان کے اختیار واقتدار میں آجائے او رحسبِ منشا جب چاہیں چھوٹے بڑے کر سکیں، زیادہ سے زیادہ بات اتنی ہے کہ جو ماضی میں اس کائنات سے فائدہ نہ اٹھا سکے، آج عقلی ترقی کے مراحل اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ ان کے ذریعہ اتنے عظیم فوائد حاصل کیے جارہے ہیں جن کا تصور بھی کچھ عرصہ پہلے نہ کرسکتے تھے۔ ان قرآنی تعبیرات پر ذرا بھی کوئی غور کرے تو بات صاف واضح ہو جاتی ہے، حق تعالیٰ کا ارشاد ہے ” تمہارے لیے یا تمہارے فائدے کے لیے یا تمہارے کاموں کے لیے چاند اور سورج کی تسخیر فرما دی۔“ یہ نہیں فرمایا کہ” تم نے چاند اور سورج کو مسخر کر دیا“ دراصل تسخیر کرنے والی حق تعالیٰ کی ذات قدسی صفات ہے، یہ موجودہ کائنات جس مقصد کے لیے تسخیر کی گئی ہے موجودہ انسانی معلومات کا ،قرآنی تعبیرات وکلمات کا واضح مفہوم بھی یہی ہے ۔ بلاشبہ عقل کی یہ ترقی اور کائناتی فضا میں رسائی فوق العادة ترقی ہے کہ ایک مشینی ایجاد، یعنی خلائی جہاز کو لاکھوں میل فضا پر پہنچا دینا او رپھر لاکھوں میل کے فاصلے سے زمین کے ساتھ اس کا رابطہ قائم رکھنا اور زمین پر سائنس دانوں کا اس پر کنٹرول کرنا، ہر خرابی کی اصلاح کرنا اور ہرسکینڈ پر اس کی کیفیت سے باخبر رہنا اور زمین پر اس کی مختلف کیفیات کی تصویروں کا پہنچتے رہنا وغیرہ وغیرہ۔ نہایت ہی حیرت افزا انسانی ترقی ہے ،لیکن یہ سب کچھ کارفرمائی اس عقل انسانی کی ہے، جو حق تعالیٰ کی مخلوق ہے اور قدرت الہٰی کی حیرت انگیز تخلیق ہے کہ انسانی عقل میں کتنی بڑی اور حیرت انگیز ترقی کی صلاحیت واہلیت ودیعت فرمائی ہے۔

جدید طبیعات کی تحقیقات میں بطلیموس کے قدیم نظامات فلکیات مشاہدہ سے غلط ثابت ہو چکے ہیں ،ان نظاموں کی بنیاد اس نظریہ پر تھی کہ سبع سیارات سات آسمانوں میں جڑے ہوئے ہیں، اسی نظر یہ پر ان کی خاص تفصیلات مرتب کی گئی ہیں، قرآن کریم نے تو صرف یہ فرمایا تھا کہ اس عالم سے قریب تر آسمان کی زینت ان ستاروں سے کی گئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ستارے آسمان کے نیچے ہیں، عوام یا خواص نے غلطی سے یہ سمجھ لیا تھا کہ شاید اسلام بھی وہی کچھ کہتا ہے جو ہیئت افلاک کے قدیم نظریات میں بیان کیا گیا ہے۔ جب یہ قدیم نظریات غلط ثابت ہوئے تو لوگوں کے اعتقاد ڈگمگانے لگے۔ جیسے طبیعات کی ان جدید تحقیقات نے اسلام کے پیش کردہ حقائق کو غلط ثابت کر دیا ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان نظامات سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ الحمدلله۔ اسلام اپنی جگہ قائم ہے۔ قدیم نظریہٴ ہیئت غلط ثابت ہو یا جدید تحقیقات… کائنات کے متعلق اسلام نے قرآن حکیم میں جتنی جگہ بھی تفصیل کی ہے وہ اپنی جگہ اٹل ہے۔ سائنس کا یہ دعویٰ قابل قبول نہیں ہے کہ آسمان کا وجود نہیں ہے، اس دعویٰ پر اس کے سوا کوئی دلیل نہیں کہ ان فلکی کرات کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان علوم کی پرواز ابھی اتنی بلند نہیں ہوئی کہ آسمانوں تک رسائی ہو جائے۔ ماہرین سائنس کی عقل وتحقیق او ران کے علوم ابھی ان کرات ہی کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ان جدید تحقیقات سے اگر کوئی حقیقت بے نقاب ہوئی ہے تو وہ صرف اس قدر ہے کہ ہیئت افلاک اور سیارات کا پرانا نقشہ غلط تھا او رجیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ اس کا اسلام اور قرآن کریم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

قرآن کریم اور وحی الہٰی کا منصب ان حقائق کو بیان کرنا ہے جہاں عقل کی رسائی نہیں ہوتی، عقل کی سرحد جہاں ختم ہو جاتی ہے وہاں سے نبوت اور وحی کی حد شروع ہوتی ہے۔ قرآن کریم اگر ان حقائق کا ئنات کی طرف کبھی کبھی اشارہ کرتا ہے تو اس کا مقصد محض تذکیر وموعظت ہے یا صرف ان عقدوں کی گرہ کشائی ہے جہاں عقل انسانی کو ٹھوکر لگتی ہے۔

اسی لیے وہ سلسلہ بیان میں ضرورت اور موقع کی نسبت سے ان اسرار وحقائق کے تذکرہ اور ان کی طرف اشارہ میں بھی کسی تکوینی حقیقت کی پوری تفصیل پیش کرنے کی بجائے ان کے صرف ان ہی پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے جہاں سے تذکیر وموعظت او رانسان کی عبرت پذیری اور بصیرت اندوزی کا مقصد حاصل ہو۔ ذات الہی کا عرفان، اس کی صفات وکمال کی معرفت حاصل کرنے کے لیے عقل و فکر کی راہ ہم وار ہو جاتی ہے۔

اسی لیے علم کائنات اوراس کے اسرار انکشافات ہی کو، جو در حقیقت ایمان ومعرفت کا وسیلہ ہیں، حیات کا مقصد وحید بنا لینا او راصل مقصد کو نظر انداز کرکے وسیلہ کو مقصدی حیثیت دے دینا، نہ انسان کے لیے مفید ہے، نہ صحت وعقل کے مطابق ہے اور نہ اسلام ہی اس کی اجازت دیتا ہے، انسان کی بقا اور اس کی ضروریات کا نہ ان علوم فنون پر انحصار ہے، اس لیے کہ وہ ان کے بغیر بھی زندہ رہا ہے اور معاشرتی آسودگی حاصل کرتا رہا ہے اور نہ قرین عقل ودانش ہی ہے کہ وہ اشرف و اکرم مخلوق، جس کے لیے یہ کائنات مسخر کی گئی ہے، جس میں قدرت کی بخشی ہوئی تسخیر وتصرف کائنات کی صلاحیتیں ظاہر ہو کر اس کے اثر خلائق ہونے کی شہادت دیتی رہی ہیں۔ اپنے سے فروتر اور مسخر مخلوق کے احوال وخواص کے علم ہی کو اپنا مقصد زندگی بنا لے، اس لیے اسلام نے اس کو یہ نصب العین دیا ہے کہ وہ کائنات کی مخلوق کو اپنے فکر ونظر کا مرکز ومحور بنانے کی بجائے خالق کائنات سے ربط و قرب کو مطلوب ومقصد بنائے اور تکوینیات کے ان علوم کو بھی انسانی زندگی کے اسی اعلیٰ ترین نصب العین تک پہنچنے کا وسیلہ بنائے۔

Leave a Response